قربانی کے چند اہم اور ضروری مسائل!
( 1) قربانی ہر مسلمان ، عاقل ، بالغ ، صاحب ِ نصاب شخص پرہر سال واجب ہے ، قربانی کا نصاب وہی ہے جو صدقہِ فطر کا نصاب ہے ۔۔۔ یعنی ضروریات ِزندگی سے جس قدر زائد سامان یا نقدی ہے ، اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو قربانی واجب ہے اور اگر اس سے کم ہے تو واجب نہیں۔۔۔۔جس شخص پر قربانی واجب نہیں یعنی وہ صاحب ِ نصاب نہیں ، وہ بھی قربانی کر سکتا ہے ، مگر یہ قربانی واجب نہیں ہوگی ، بلکہ نفلی ہوگی۔۔
(2) اگر گھر میں بہت سارے افراد ہیں ، تو ہر صاحب ِ نصاب پر الگ الگ قربانی کرنا واجب ہے ۔۔۔ ایک ہی قربانی سب کی طرف سے کافی نہیں ہوگی۔۔۔
(3) بیوی کی قربانی شوہر کے ذمے نہیں ، بلکہ اگر بیوی صاحب ِ نصاب ہے تو وہ اپنی قربانی خود کرے ، اسی طرح اولاد کی قربانی بھی باپ کے ذمے نہیں ۔۔۔ اگر اولاد صاحب ِ نصاب ہے تو وہ اپنی قربانی خود کرے۔۔
(4)قربانی، دنبہ ، دنبی ، مینڈھا ، بھیڑ ، گائے ، بیل ، بکرا بکری ، بھینس ، اونٹ ، اونٹنی۔۔۔ صرف ان جانوروں کی ہوسکتی ہے ، ان کے علاوہ اور
کسی جانور کی قربانی کرنا جائز نہیں ۔۔۔۔۔
(5)قربانی میں بکرا اور بکری کے لئے ایک سال کا ہونا ضروری ہے ۔۔ ایک سال سے کم پر قربانی جائز نہیں۔۔۔۔
(6) گائے اور بھینس کے لئے دو سال کا ہونا ضروری ہے ، دو سال سے کم پر قربانی جائز نہیں۔۔۔
(7)اونٹ کے لئے پانچ سال کا ہونا ضروری ہے ، پانچ سال سے کم پر قربانی جائز نہیں۔
(8) بھیڑ وغیرہ میں چھ مہینے کے بچے کی بھی قربانی جائز ہے ، مگر وہ چھ مہینے کا بچہ اتنا ہٹا کٹا ہونا چاہئے کہ ایک سال کے برابر لگے ، ورنہ جائز نہیں۔۔
(9)یہ یاد رہے کہ اگر حصے داروں میں سے کسی ایک کی نیت میں کھوٹ آ گیا تو سب کی قربانی جاتی رہے گی ، مثال کے طور پر اگر گائے کے سات حصہ داروں میں سے کسی ایک شخص کی نیت (یا اس سے زیارہ) کی نیت رضائے الٰہی نہیں ، بلکہ اس کی نیت گوشت خوری ہے ، تو سات حصے داروں میں سے کسی ایک کی بھی قربانی نہیں ہو گی۔۔ اس لئے کسی کے ساتھ حصہ رکھتے وقت خوب چھان بین کر لینی چا ہئیے ، اگر کوئ ایسا شخص حصے داروں میں موجود ہو جس کے بارے میں ایسا گمان ہو تو وہاں حصہ نہ رکھا جائے۔۔۔
(10) بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں ، ایک حصہ اپنے کھانے کے لئے ، دوسرا اپنے دوست احباب اور رشتے داروں کے لئے ، اور تیسرا حصہ غریبوں اور نادارواں کے لئے ، یہ طریقہ بہتر ہے ، اگر کوئی اپنے مرضی کے مطابق گوشت خرچ کرنا چاہتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔
(11)قربانی کی کھال قصائی کوبطور ِ اجرت دینا جائز نہیں ، جبکہ قربانی کی کھال اپنے کام میں لائی جا سکتی ہے ، اور کسی کو ہدیہ بھی کی جاسکتی ہے ، لیکن اگر کھال کو بیچ دیا تو اب اس کی قیمت کسی نادار اور مستحق کو دینا واجب ہے ۔۔۔کھال یا اس کی قیمت کسی ایسے اداے یا ٹرسٹ کو بھی دینا جائز نہیں جو فلاحی کام کرواتا ہو ، بلکہ کھال کے اندر یہ مسئلہ ہے کہ اس کا کسی نادار اور مستحق کو مالک بنایا جائے ۔۔۔ ہاں ، اگر کسی ادارے کے بارے میں یہ پختہ خیال ہو کہ وہ کھال یا کھال کی قیمت کا مستحقین کو مالک بناتا ہے تو اب اس کو دینا جائز ہے ۔۔۔
(12) شہر کے اندر ، جہاں عید کی نماز ہوتی ہے ، وہاں قربانی کا وقت عید کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے ۔۔۔ عید کی نماز سے پہلے جائز نہیں۔۔ جبکہ دیہات وغیرہ میں جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی ، وہاں صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد قربانی کرنا جائز ہے ۔۔۔
(13) قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے ، اگر کوئی اپنے ہاتھ سے ذبح نہیں کر سکتا تو ذبح کرنے والے کے پاس کھڑا ہونا مستحب ہے ۔۔۔
(14)قربانی کے جانور عید کے دنوں مٰیں شام (یعنی سورج غروب ہونے تک) ذبح کر لینے چاہئیے۔۔پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے ، اس کے بعد دوسرے دن اور پھر تیسرے دن۔۔۔
(15)روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدینے کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی کی۔۔۔
کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ قربانی کے پیسوں کا صدقہ کر دیا جائے ، یہ خیال باالکل غلط ہے ، بلکہ ایسا کرنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔۔ہر صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا یعنی جانور کا ذبح کرنا ہی واجب ہے
(7)اونٹ کے لئے پانچ سال کا ہونا ضروری ہے ، پانچ سال سے کم پر قربانی جائز نہیں۔
(8) بھیڑ وغیرہ میں چھ مہینے کے بچے کی بھی قربانی جائز ہے ، مگر وہ چھ مہینے کا بچہ اتنا ہٹا کٹا ہونا چاہئے کہ ایک سال کے برابر لگے ، ورنہ جائز نہیں۔۔
(9)یہ یاد رہے کہ اگر حصے داروں میں سے کسی ایک کی نیت میں کھوٹ آ گیا تو سب کی قربانی جاتی رہے گی ، مثال کے طور پر اگر گائے کے سات حصہ داروں میں سے کسی ایک شخص کی نیت (یا اس سے زیارہ) کی نیت رضائے الٰہی نہیں ، بلکہ اس کی نیت گوشت خوری ہے ، تو سات حصے داروں میں سے کسی ایک کی بھی قربانی نہیں ہو گی۔۔ اس لئے کسی کے ساتھ حصہ رکھتے وقت خوب چھان بین کر لینی چا ہئیے ، اگر کوئ ایسا شخص حصے داروں میں موجود ہو جس کے بارے میں ایسا گمان ہو تو وہاں حصہ نہ رکھا جائے۔۔۔
(10) بہتر یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں ، ایک حصہ اپنے کھانے کے لئے ، دوسرا اپنے دوست احباب اور رشتے داروں کے لئے ، اور تیسرا حصہ غریبوں اور نادارواں کے لئے ، یہ طریقہ بہتر ہے ، اگر کوئی اپنے مرضی کے مطابق گوشت خرچ کرنا چاہتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔
(11)قربانی کی کھال قصائی کوبطور ِ اجرت دینا جائز نہیں ، جبکہ قربانی کی کھال اپنے کام میں لائی جا سکتی ہے ، اور کسی کو ہدیہ بھی کی جاسکتی ہے ، لیکن اگر کھال کو بیچ دیا تو اب اس کی قیمت کسی نادار اور مستحق کو دینا واجب ہے ۔۔۔کھال یا اس کی قیمت کسی ایسے اداے یا ٹرسٹ کو بھی دینا جائز نہیں جو فلاحی کام کرواتا ہو ، بلکہ کھال کے اندر یہ مسئلہ ہے کہ اس کا کسی نادار اور مستحق کو مالک بنایا جائے ۔۔۔ ہاں ، اگر کسی ادارے کے بارے میں یہ پختہ خیال ہو کہ وہ کھال یا کھال کی قیمت کا مستحقین کو مالک بناتا ہے تو اب اس کو دینا جائز ہے ۔۔۔
(12) شہر کے اندر ، جہاں عید کی نماز ہوتی ہے ، وہاں قربانی کا وقت عید کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے ۔۔۔ عید کی نماز سے پہلے جائز نہیں۔۔ جبکہ دیہات وغیرہ میں جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی ، وہاں صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد قربانی کرنا جائز ہے ۔۔۔
(13) قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے ، اگر کوئی اپنے ہاتھ سے ذبح نہیں کر سکتا تو ذبح کرنے والے کے پاس کھڑا ہونا مستحب ہے ۔۔۔
(14)قربانی کے جانور عید کے دنوں مٰیں شام (یعنی سورج غروب ہونے تک) ذبح کر لینے چاہئیے۔۔پہلے دن قربانی کرنا افضل ہے ، اس کے بعد دوسرے دن اور پھر تیسرے دن۔۔۔
(15)روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدینے کے دس سالہ قیام میں ہر سال قربانی کی۔۔۔
کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ قربانی کے پیسوں کا صدقہ کر دیا جائے ، یہ خیال باالکل غلط ہے ، بلکہ ایسا کرنا گناہ کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔۔ہر صاحبِ نصاب پر قربانی کرنا یعنی جانور کا ذبح کرنا ہی واجب ہے

0 comments:
Post a Comment